28

دیر تک کام کرنے والے ہوشیار ہوجائیں

کرونا وائرس کی وبا کے دوران گھر سے کام کرنا اور دیر تک کام کرنا معمول کا حصہ بن چکا ہے، تاہم ماہرین نے دیر تک کام کرنے والوں کو خبردار کیا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ دیر تک کام کرنے کی وجہ سے دنیا میں ہر سال لاکھوں اموات ہوتی ہیں اور کرونا وائرس کے بعد جو معاشی صورتحال پیدا ہوئی ہے اس میں زیادہ دیر تک کام کرنے کے رجحان میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

طویل اوقات کار کے زندگی پر پڑنے والے اثرات پر پہلی عالمی تحقیق میں ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ سنہ 2016 میں ایسے 7 لاکھ 45 ہزار افراد دل کے دورے اور فالج کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے گئے جن کا براہ راست تعلق بہت دیر تک کام کرنے سے ہے۔

سنہ 2000 کے مقابلے میں یہ شرح تقریباً 30 فیصد زیادہ ہے۔ تحقیق کے مطابق دیر تک کام کرنے والے افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور اس وقت ایسے افراد عالمی آبادی کا تقریباً 9 فیصد ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے شعبہ ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی و صحت کی ڈائریکٹر ماریا نیرا کا کہنا ہے کہ ہفتے میں 55 گھنٹے یا اس سے زیادہ کام کرنا صحت کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

ڈائریکٹر جنرل ٹیڈ روس کے مطابق کووِڈ 19 کی وبا نے کئی لوگوں کے کام کرنے کے انداز اور طریقے بدل دیے ہیں۔ اب کئی صنعتوں میں ٹیلی ورکنگ عام ہو چکی ہے اور گھر اور دفتر کا فرق مٹتا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کوئی بھی کام ایسا نہیں جو آپ کی صحت سے بڑھ کر ہو، اس لیے حکومتوں، اداروں اور کام کرنے والوں کو صحت کے تحفظ کے لیے کچھ حدیں مقرر کرنی چاہئیں۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ سنہ ‏2000 سے 2016 کے دوران زیادہ دیر تک کام کرنے والوں میں دل کے امراض کی وجہ سے مرنے والوں کی تعداد 42 فیصد اور فالج سے 19 فیصد تک بڑھی۔

تحقیق کے مطابق ہفتے میں 55 گھنٹے یا اس سے بھی زیادہ کام کرنے سے فالج کے حملے کا خدشہ تقریباً 35 فیصد اور دل کے کسی مرض کے ہاتھوں مرنے کا خطرہ 17 فیصد ان افراد سے زیادہ ہوجاتا ہے جو مقررہ وقت میں کام کرتے ہیں۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں