64

خواتین کے مقابلے میں مرد کرونا وائرس کا زیادہ شکار کیوں ہورہے ہیں؟

اسلام آباد : (الشامی نیوز آن لائن نیوز )کرونا وائرس خواتین کے مقابلے میں مردوں پر زیادہ شدت سے کیوں اثر انداز ہوتا ہے، ماہرین نے اس کی وجہ تلاش کرلی ہے۔

کرونا وائرس کے آغاز سے ہی متعدد تحقیقات میں ثابت ہوا کہ اس کا شدید اثر اور موت کا خدشہ خواتین کے مقابلے میں مردوں میں زیادہ ہوتا ہے۔

اس وقت سے طبی ماہرین اس کی وجہ جاننے کے لیے کام کر رہے ہیں اور ابتدا میں قیاس لگایا گیا تھا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ مرد زیادہ تمباکو نوشی کرتے ہیں، مگر اب ایسے شواہد سامنے آرہے ہیں، جن سے عندیہ ملتا ہے کہ خواتین کے مخصوص ہارمونز اس حوالے سے بنیادی عنصر کی حیثیت رکھتے ہیں۔

حال ہی میں کی جانے والی ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ خواتین میں پائے جانے والے تولیدی ہارمونز ایسٹروجن اور پروجسٹرون کووڈ 19 کے خلاف تحفظ فراہم کرنے کا کردار ادا کرتے ہیں، جس کی وجہ ان کی ورم کش خصوصیات اور مدافعتی نظام پر مثبت اثرات مرتب کرنا ہے۔

طبی جریدے جرنل ٹرینڈز اینڈ اینڈوکرونولوجی اینڈ میٹابولزم میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ اس سے ممکنہ طور پر وضاحت ہوتی ہے کہ مرد کووڈ 19 سے خواتین سے زیادہ متاثر کیوں ہوتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ دیگر بیماریوں کے مقابلے میں کرونا وائرس سے حاملہ خواتین میں ہلاکت کا امکان بہت کم ہوتا ہے۔

امریکا کی الی نوائس یونیورسٹی کی اس تحقیق میں اس بات پر توجہ مرکوز کی گی کہ بڑی تعداد میں حاملہ خواتین میں کووڈ 19 کی علامات حمل کے دوران ظاہر نہیں ہوئیں، مگر بچے کی پیدائش کے بعد اچانک بدترین علامات نمودار ہوئیں۔

زچگی کے بعد خواتین میں مخصوص ہارمونز کی سطح میں نمایاں کمی آتی ہے جو ان علامات کے نمودار ہونے کا باعث بنتی ہیں۔

محققین کا کہنا تھا کہ حمل کو مستحکم رکھنے والے ہارمونز جیسے پروجسٹرون حمل کی تیسری سہ ماہی کے دوران سو گنا زیادہ ہوتے ہیں، یہ سب ہارمونز ورم کش افعال کے حامل ہوتے ہیں اور مدافعتی نظام پر اثرات مرتب کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس سے عندیہ ملتا ہے کہ حاملہ خواتین کو بچے کی پیدائش کے بعد زیادہ سنگین بیماری کا سامنا ہوتا ہے کیونکہ ان ہارمونز کی سطح میں ڈرامائی کمی آتی ہے۔

تحقیق میں خیال ظاہر کیا گیا کہ خواتین کے مخصوص ہارمونز کووڈ 19 کی سنگین شدت کو ٹالنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔

تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ یہ ہارمونز وائرس سے متاثر ہونے پر پھیپھڑوں کے خلیات کی مرمت کا عمل تیز کرتے ہیں اور وائرس کو خلیات میں داخل ہونے میں مدد دینے والے ایس ٹو ریسیپٹر کو بھی روکتے ہیں۔

علاوہ ازیں یہ ہارمونز ممکنہ طور پر مدافعتی نظام کے شدید ردعمل کی روک تھام میں بھی مدد فراہم کرتے ہیں

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں