71

جوڑوں کے مرض کی ادویات سے اب کورونامریضوں کا علاج

اسلام آباد (الشامی نیوز) دنیا بھر میں کوروناوائرس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بیماری ‘کووڈ 19’ کے خلاف اثر انداز ہونے والی مزید دو ادویات سامنے آگئیں، جوڑوں کے مرض کی دوائیوں سے اب سنگین کورونا مریضوں کا علاج ہوگا۔

برطانیہ میں ہونے والی تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ tocilizumab اور sarilumab نامی ادویات سے کووڈ 19 کے نتیجے میں سنگین حد تک بیمار ہر 12 میں سے ایک مریض کی زندگی بچائی جاسکتی ہے۔ برطانیہ نے 8 جنوری(آج) سے ٹوسی لیزوماب کو کورونا مریضوں کے لیے استعمال کا فیصلہ کیا ہے۔

تحقیق کے نتائج کے بعد برطانیہ میں آئی سی یو میں زیر علاج کورنا مریضوں کے لیے tocilizumab دوا استعمال کی جائے گی، حکام نے بتایا کہ ہزاروں مریضوں پر آزمائش میں اس دوا کے فوائد کی تصدیق ہوئی اور یہ موت کا خطرہ ممکنہ طور پر 24 فیصد تک کم کرسکتی ہے، ملک میں اس کے استعمال سے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔

تحقیق کے مطابق sarilumab بھی وہ اہم دوا ہے جو ناصرف کورونا مریضوں کی زندگیاں بچاسکتی ہے بلکہ آئی سی یو میں زیرعلاج مریضوں کا دورانیہ کم کرنے میں بھی معاونت فراہم کرے گی۔

طبی دنیا میں یہ دونوں ادویات آئی ایل 6 ریسیپٹر کے طور پر بھی جانی جاتی ہیں، جو جسم میں ایسے پروٹینز کے اثرات کو کم کرتی ہیں جو مدافتی نظام کے شدید ترین ردعمل کا باعث بنتے ہیں، کورونا مریضوں میں بھی اسی طرح کا ردعمل دیکھا جاتا ہے، ان ادویات کو عمومی طور پر جوڑوں کے مرض کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

اس ریسرچ میں ایک ٹرائل کو حصہ بنایا گیا جس میں 15 ممالک کے 3 ہزار 900 سے زائد کورونا مریض شامل ہوئے، تمام مریضوں کو دو گروہوں میں بانٹنے کے بعد ایک کو عام علاج جبکہ دوسرے کو مذکورہ ادویات دی گئیں جس کے بعد نتائج نکالے گئے جس سے پتا چلا کہ جنہیں یہ دوائیاں دی گئیں ان میں 21 دن تک بہتری نظر آئی۔

تحقیق کے مطابق ٹرائل میں شامل 6 ممالک کے 792 مریضوں میں موت کے خطرات کم ہونا رپورٹ ہوئے، اسی طرح عام طریقہ علاج والے گروپ میں آئی سی یو میں زیرعلاج مریضوں کی اموات کی شرح 35.8 فیصد تھی جبکہ tocilizumab استعمال کرنے والے گروپ میں 28 فیصد اور sarilumab والے مریضوں میں 22.2 فیصد دیکھی گئی۔

دونوں ادویات کے استعمال کے بعد مشترکہ اموات کی شرح 27.3 فیصد رہی جو عام طریقہ علاج سے 8.5 فیصد کم ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ ان ادویات سے ہر 12 میں سے ایک مریض کی زندگی بچائی جاسکتی ہے۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں