74

بچّوں‌ کو کھانے پینے کی طرف کیسے راغب کیا جائے

اسلام آباد (الشامی نیوز) ایک جملہ اکثر مائوں کی زبان پر رہتا ہے کہ ان کا بچّہ کچھ کھانا نہیں چاہتا اور بہت تنگ کرتا ہے۔ وہ ہر آنے والے سے شکایتی لہجے میں‌ اپنا مسئلہ بیان کرتی ہیں اور ڈاکٹر کے پاس جانا ہو تو یہی پوچھتی ہیں کہ کس طرح بچّے کو کھانے پینے کی طرف راغب کیا جائے۔

طبّی ماہرین کے مطابق اکثر ماؤں‌ کی یہ شکایت بے جا ہوتی ہے، کیوں کہ ان کے بچّے عمر اور وزن کے لحاظ جسمانی طور پر ٹھیک ہوتے ہیں، لیکن ان کی خواہش ہوتی ہے کہ بچّہ ہر وقت کھاتا پیتا نظر آئے جب کہ بے وقت یا زیادہ کھانا کوئی صحت مند رجحان نہیں‌ ہے۔ ان والدین کو ضرور فکرمند ہونا چاہیے جن کے بچّوں کا ان کی عمر کے لحاظ سے قد، وزن اور جسمانی نشوونما ٹھیک نہ ہو۔ ان کی خوراک پر ضرور توجہ دینے کی ضرورت ہوتی ہے اور معالج سے رجوع کرنا پڑتا ہے۔

وہ بچّے جن کا عمر کے مطابق وزن، قد اور جسمانی نشوونما متاثر ہو اور اس کا سبب خوارک کی کمی ہو تو اسے حل کرنے کے لیے چند ہدایات پر عمل کرنا چاہیے۔

طبی ماہرین کے مطابق ضروری کہ مائیں‌ اپنے بچّوں کی جسمانی صحّت کا دوسرے بچّوں سے موازنہ یا مقابلہ نہ کریں۔ یاد رکھیے ہر بچّے کی پسند، ناپسند اور کھانے پینے میں‌ دل چسپی مختلف ہوتی ہے۔ اسی طرح‌ ضروری نہیں کہ ایک ہی گھر کے بچّے یا قریبی رشتے داروں‌ کے بچّوں کا قد، جسامت اور وزن و صحّت ایک سا ہو۔ ان میں جینیاتی اور ان کے ماحول کی وجہ سے فرق ضرور ہوتا ہے۔

مائیں‌ چھے سے ایک سال کے بچے کو ٹھوس غذا اس وقت دیں جب وہ بھوکا ہو۔ اس میں‌ عمر کے لحاظ سے ہلکی اور زود ہضم غذائیں‌ کھلائیں اور کبھی دلیا، ساگو دانہ، کسٹرڈ، کچھڑی وغیرہ دیں۔ غور کریں‌ کہ بچّہ نمکین یا میٹھی چیزوں میں سے کیا رغبت سے کھاتا ہے۔

دو سال سے بڑے بچّے کی کھانے پینے میں دل چسپی پیدا کرنے کے لیے مختلف رنگوں اور اس کی دل چسپی کی باتوں یا ہنسی مذاق کا سہارا لینا چاہیے۔ اسے گھر میں روٹی سالن یعنی معمول کے کھانوں کا عادی بنائیں، لیکن ساتھ ساتھ گھر میں‌ برگر، آلو کے چپس، سینڈوچ، بروسٹ وغیرہ بنا کر بھی دینا شروع کریں۔ سب سے اہم بات کہ مائیں‌ اسے جو بھی کھانے کو دیں اس کا ایک وقت مقرر ہو۔ بسکٹ، نمکو، بازاری چپس یا ڈبہ بند مصنوعات کی عادت نہ ڈالیں۔

اکثر مائیں‌ بچّوں کے سامنے بار بار کہتی ہیں‌ کہ یہ کچھ کھاتا پیتا نہیں ہے۔ یہ رویہ ترک کردیں۔ اگر وہ کوئی چیز کھانے سے انکار کردے تو اسے پیار سے کھلانے کی کوشش کریں، مگر مسلسل انکار کے بعد ایسا کوئی جملہ کہنے کی ضرورت نہیں‌ ہے۔ آپ اسے چھوڑ دیں‌ یا کچھ اور بنا کر دے دیں۔

ایسے بچّے جو زیادہ بچّوں کے درمیان ہوش سنبھالتے ہیں ان کی کھانے پینے کا معمول بنانا آسان ہوتا ہے، لیکن اکلوتی اولاد کے ساتھ زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے اور یہ یقینا‌ صبر آزما بھی ہوتا ہے۔

پلیٹ صاف کردینے اور خوش دلی سے کھانا کھانے پر بچّوں کی حوصلہ افزائی کریں اور یہ سب ابتدائی عمر ہی سے کرنا ہو گا تبھی وہ بڑھتی ہوئی عمر کے ساتھ کھانے پینے کے عادی بنیں‌ گے۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں