71

ماؤنٹ ایورسٹ پر 100 کوہ پیما کورونا وائرس سے متاثر ہوئے ڈاکٹروں نے رپورٹ جاری کردی

کٹھمنڈو: (مانیٹرنگ ڈیسک) آسٹریا سے تعلق رکھنے والے کوہ پیمائی کے ماہر گائیڈ لوکاس فرٹنبیچ نے کہا ہے کہ ماؤنٹ ایورسٹ پر کورونا وائرس پھیلنے سے کوہ پیما اور مددگار عملے کے ارکان سمیت کم از کم 100 افراد متاثر ہوئے ہیں۔

امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق یہ دنیا کی بلند ترین چوٹی پر کووڈ 19 کی موجودگی کے حوالے سے پہلا جامع بیان ہے۔ خیال رہے کہ نیپال کے سرکاری عہدیدار یہاں پر کورونا وائرس کی موجودگی سے انکار کرتے رہے ہیں۔

آسٹریا کے لوکاس فرٹنبیچ وہ پہلے معروف کوہ پیما گائیڈ ہیں جنہوں نے گزشتہ ہفتے کورونا وائرس کے خدشات کے سبب ایورسٹ کی اپنی مہم روک دی تھی۔ انہوں نے کہا ان کے ایک غیر ملکی گائیڈ اور 6 نیپالی شرپا گائیڈز کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔

لوکاس نے اے پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میرا خیال ہے کہ اب تک ریسکیو پائلٹس، انشورنس عہدیداروں، کوہ پیمائی مہم کے گائیڈز اور ڈاکٹروں سے تمام کیسز کی تصدیق ہوئی ہے۔ میرے پاس پازٹیو ٹیسٹ رپورٹس ہیں، اس لیے ہم یہ ثابت کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا ہمارے پاس بیس کیمپ میں کم سے کم 100 افراد کورونا پازٹیو ہیں اور یہ تعداد 150 یا 200 تک ہو سکتی ہے۔ یہ بات واضح ہے ایورسٹ بیس کیمپ میں بہت سے کووڈ کیسز موجود تھے۔ مجھے دکھائی دے رہا تھا کہ لوگ بیمار ہیں، ان کے خیموں سے کھانسنے کی آوازیں صاف سنائی دے رہی تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ رواں سیزن میں مجموعی طور پر 408 غیر ملکی کوہ پیماؤں کو ایورسٹ سر کرنے کے اجازت نامے جاری کئے گئے تھے۔ ان کی مدد کے لیے کئی سو شرپا گائیڈز اور معاون عملہ ماہ اپریل سے بیس کیمپ میں تعینات ہے۔

دوسری جانب کوہ پیمائی سے متعلق نیپالی عہدیداروں نے اس بات کی تردید کی ہے کہ ہمالیہ پہاڑوں کے بیس کیمپوں میں موجود کوہ پیماؤں یا امدادی عملے میں کورونا کا کوئی کیس موجود ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال کورونا کی عالمی وبا کے باعث کوہ پیمائی کا سلسلہ بند کر دیا گیا تھا۔

ہفتے کو اس صورتحال پر تبصرے کے لیے فوری طور پر کسی نیپالی عہدیدار سے رابطہ ممکن نہیں ہوسکا۔ دیگر کوہ پیما ٹیموں نے اپنے ارکان یا عملے کے کسی رکن کے کورونا وائرس سے متاثر ہونے کا اعلان نہیں کیا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں