64

اژدھے کا گوشت اور انڈے کھانے کی اجازت دینے پر غور شروع

امریکہ : (الشامی نیوز / آن لائن نیوز) امریکی ریاست فلوریڈا کی حکومت نے اژدھے اور سانپ کے گوشت و انڈوں کو بطور خوراک استعمال کی اجازت دینے پر غور شروع کردیا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق فلوریڈا سے تعلق رکھنے والی خاتون ڈونا کیلل گزشتہ تین برس کے دوران سیکڑوں اژدھے، سانپ اور اُن کےانڈے کھاچکی ہیں۔

جنوبی فلوریڈا کی رہائشی خاتون نے بتایا کہ اژدھے کی خاص نسل (برمی پائتھن) بڑی تعداد میں علاقے میں موجود ہیں اور اُن کی نسل تیزی سے پروان چڑ رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ تین برس قبل میں نے ایک دن اژدھے کو مار کر اُس کے تکے بنا کر کھائے جو مجھے بہت مزے کے لگے تھے، اُس کے بعد سے میں نے یہ کام شروع کردیا اور اب جہاں موقع ملتا ہے تو اژدھے کو مار کر اُس کا کھانا بناتی ہوں۔

رپورٹ کے مطابق جنوبی فلوریڈا میں پانی کی انتظامی اتھارٹی اور دیگر سرکاری اداروں نے اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ عوام برمی پائتھن مار کر ان کا گوشت خوراک کے طور پر استعمال کریں۔

محکمہ جنگلی حیات اور مچھلیوں کے حوالے سے بنائے جانے والے کمیشن کی ترجمان کارلی سیگلسن نے بتایا کہ ’ان اژدھوں کو فلوریڈا میں ’انویزو‘ گھس بیٹھیے کے نام سے جانا جاتا ہے کیونکہ یہ ہر گھر میں ہی موجود ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ یہ اژدھے دیگر مقامی انواع اور غذائی زنجیر کے لیے خطرہ ضرور ہیں مگر ان کا گوشت انسانی صحت پر برے اثرات مرتب نہیں کرتا تو اگر کوئی چاہیے وہ ان کا گوشت استعمال کرسکتا ہے۔

دوسری جانب طبی ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ پائتھن کا اعصابی زہر انسانوں کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے لہذا اس کے گوشت کو خوراک کے طور پر استعمال نہ کیا جائے۔

فلوریڈا میں مخصوص نسل کے اژدھوں کے گوشت پر تحقیق جاری ہیں، اس ضمن میں ماہرین نے گوشت کے ٹکڑوں کا لیبارٹری میں مشاہدہ کیا ہے تاکہ اس کے انسانی جسم پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لیا جا سکے۔

کہا جارہا ہے کہ حکومت نے اژدھوں اور سانپوں کے گوشت کو بطور خوراک کھانے کی اجازت دینے کے حوالے سے سوچ بچار شروع کردی ہے مگر اس کا حتمی فیصلہ تحقیقی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔

ڈونا نے بتایا کہ وہ اژدھے کو کاٹ کر اُس کی کھال اتارتی ہیں اور پھر اُسے 10 سے 15 منٹ پریشر ککر میں پکاتی ہیں، بعد ازاں اس میں ادرک، پیاز، ساس اور دیگر چیزیں شامل کر کے اسے کھاتی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں